اٹھتی جوانی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - چڑھتا شباب، آغاز جوانی، نوجوانی۔ "میرن صاحب کا لڑکپن اور اٹھتی جوانی اسی میں بسر ہوئی۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٢٠٩ )

اشتقاق

مرکب توصیفی ہے۔ 'اُٹھْنا' مصدر سے حالیہ ناتمام 'اُٹھْتا' کی تانیث 'اُٹھتی' کے ساتھ فارسی زبان کے اسم صفت 'جَوان' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگائی گئی ہے۔ اردو میں ١٨١٨ء کو انشا کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چڑھتا شباب، آغاز جوانی، نوجوانی۔ "میرن صاحب کا لڑکپن اور اٹھتی جوانی اسی میں بسر ہوئی۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٢٠٩ )

جنس: مؤنث